ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بھٹکل سمیت ضلع شمالی کینرا میں 4مولاناآزاد ماڈل اسکولوں کا قیام

بھٹکل سمیت ضلع شمالی کینرا میں 4مولاناآزاد ماڈل اسکولوں کا قیام

Fri, 07 Jul 2017 21:35:16    S.O. News Service

کاروار 7؍جولائی (ایس او نیوز) حکومت کرناٹکا کی طرف سے ریاست میں 100مولانا آزاد ماڈل اسکول قائم کرنے کا اعلان امسال بجٹ 2017 - 18میں کیا گیاتھا۔ اسی ضمن کارروائی کرتے ہوئے بھٹکل میں ایک اسکول سمیت ضلع شمالی کینرا میں ایسے4/اسکولس قائم کیے گئے ہیں۔

سرکار کی جانب سے اس قسم کے اسکولوں کے قیام کا مقصد یہ ہے کہ اسکولی تعلیم ادھوری چھوڑ کر روزی روٹی کمانے یا بیکار زندگی گزارنے کی طرف چل پڑنے والے ڈراپ آؤٹ طلباء کو دوبارہ اسکولی تعلیم کی طرف لایا جائے اور انہیں تعلیم یافتہ بنا کر باعزت زندگی گزارنے کے قابل بنایا جاسکے۔ طلباء کی کمی کی وجہ سے جن اردو اسکولوں پر تالا لگ گیا ہے ، وہاں پر مولانا آزاد ماڈل اسکول قائم کیے جارہے ہیں۔ ڈپارٹمنٹ آف مائناریٹیز ویلفیئر کی طرف سے فی الحال کاروار، منڈگوڈ، ہلیال اور بھٹکل میں قائم ہونے والے ان اسکولوں میں چھٹی (۶) جماعت سے داخلہ دیا جائے گا اور ذریعہ تعلیم انگریزی اور اردو ہوگا۔

ماینارٹیز ویلفیئر ڈپارٹمنٹ کے ضلعی افسر گوڈپّا جوگالی کوپّا نے بتایا کہ حالانکہ نیا تعلیمی سال ایک مہینے قبل ہی شروع ہوچکا ہے ، مگر محکمہ نے تاخیر سے ہی سہی اسی تعلیمی سال سے اسکولوں کے آغاز کا فیصلہ کیا ہے۔ ہر کلاس میں اپنی مرضی سے آنے والے 60طلباء تک کو داخل کیا جائے گاجو مسلم، کرسچین، جین، سکھ، بدھ اور پارسی جیسے اقلیتی طبقات سے ہونگے۔ہر جماعت میں 25%نشستیں پسماندہ طبقات اور پسماندہ ذاتوں کے لئے مختص ہونگی اور50%نشستیں لڑکیوں کے لئے مختص رہیں گی۔

آفسر کی اگر مانیں تو  ایسے اسکولوں کے قیام کے تعلق سے اقلیتی علاقوں میں عوامی مقامات پر تشہیری پوسٹرس لگائے گئے تھے اور میڈیا کے ذریعے بھی معلومات فراہم کی گئی تھیں۔ مسٹر جوگالی کوپّا کا کہنا ہے کہ بہت سارے والدین نے محکمے سے رابطہ قائم کرتے ہوئے اپنے بچوں کو ایسے اسکولوں میں داخل کروانے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ان اسکولوں میں داخلے کے لئے منتخب ہونے والے طلباء کو بہترین کلاس رومس اور خوشگوار ماحول میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا جائے گاجس میں کمپیوٹرس ، پرنٹرس ، سی سی کیمرے اور دوسرے لوازمات کا بھی بندوبست کیا گیا ہے۔طلباء کے لئے پینے کے پانی کی سہولت کے علاوہ یونیفارم اور کتابیں بھی دستیاب ہونگی۔کنڑا ، انگلش، حساب اور اردو پڑھانے کے لئے مہمان اساتذہ (گیسٹ ٹیچرس) کومتعین کیا جارہا ہے۔ ان اسکولوں میں داخلے کے خواہشمند طلباء کے والدین سے کہا گیا ہے کہ وہ اس ضمن میں محکمہ اقلیتی بہبود کے افسران سے رابطہ قائم کریں۔
 


Share: